مساجد و مدارس کا تحفظ: ماتم سے آگے بڑھنے کا وقت
تحریر: یوسف شمسی
رابطہ: 9162216560
کبھی کسی مسجد کا گنبد زمین بوس ہوتا ہے، کبھی کسی مدرسے کی دیواریں ملبے میں تبدیل کر دی جاتی ہیں اور کبھی کسی قبرستان یا مزار کی حدود پر سوال کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ چند تصویریں سامنے آتی ہیں، کچھ لوگ افسوس کا اظہار کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر احتجاج ہوتا ہے، چند مضامین لکھے جاتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔
لیکن کیا واقعی معمول پر آ جانا ہی ہمارا مقدر ہے؟
سدھارتھ نگر کے پپرا رام لال میں مدرسہ عربیہ ضیاء العلوم کا منہدم کیا جانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں ایک تعلیمی ادارہ ملبے میں تبدیل ہو گیا اور ہم حسبِ معمول اس واقعے کو دیکھتے، سنتے اور چند دن بعد بھولتے رہے۔
درد صرف مدرسے کے منہدم ہونے کا نہیں ہے۔ اصل تکلیف یہ ہے کہ ایسے واقعات کے سامنے ہماری اجتماعی بے بسی بار بار ظاہر ہو رہی ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے؟
کسی بھی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف جذبات کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے کاغذات درست رکھنے پڑتے ہیں، زمین کی قانونی حیثیت واضح ہونی چاہیے، ریکارڈ محفوظ ہونا چاہیے، عدالتوں میں بروقت رجوع کرنا پڑتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ماہر وکلاء کی خدمات حاصل کرنا ہوتی ہیں۔ انتظامیہ سے رابطہ رکھنے کے لیے باقاعدہ نظام چاہیے۔ مقامی سطح پر ایسے ذمہ دار افراد ہونے چاہئیں جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کی اطلاع بروقت متعلقہ لوگوں تک پہنچا سکیں۔ہم نے ان میں سے کتنے کاموں کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے؟
یہ سوال حکومت سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔
ہماری اجتماعی زندگی میں بہت سے کام ایسے ہیں جن پر ہم بڑی آسانی سے لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ جلسے، جلوس، بڑے بڑے اجتماعات، تشہیری پروگرام، شادی بیاہ کی نمود و نمائش اور بے شمار غیر ضروری اخراجات ہماری ترجیحات کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن جب کسی مسجد، مدرسے یا قبرستان کے قانونی تحفظ کی بات آتی ہے تو اکثر ہماری جیبیں بھی خاموش ہو جاتی ہیں اور ہماری تنظیمیں بھی۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف چندہ جمع کرکے عمارت تعمیر کر دینا کافی نہیں۔ آج کے دور میں کسی دینی ادارے کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط انتظامی، قانونی اور دستاویزی نظام بھی ضروری ہے۔
ہم نے مدارس تو بنا دیے، لیکن کیا ان کے کاغذات مکمل ہیں؟
ہم نے مساجد تعمیر کر دیں، لیکن کیا ان کی زمین کا ریکارڈ محفوظ اور واضح ہے؟
ہم نے قبرستانوں کی چار دیواری تو کر دی، لیکن کیا ان کی حدود اور ملکیت کے متعلق تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں؟
ہم نے ادارے قائم کر دیے، مگر کیا ان کے تحفظ کے لیے مستقل قانونی فنڈ قائم کیا؟
یہ سوالات شاید تلخ ہیں، مگر ان سے فرار اب مزید ممکن نہیں۔
ہم اکثر کسی سانحے کے بعد یہ پوچھتے ہیں کہ حکومت نے ایسا کیوں کیا؟ یہ سوال اپنی جگہ بالکل درست ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی ضروری ہے: ہم نے اپنے تحفظ کے لیے پہلے سے کیا تیاری کر رکھی تھی؟
اگر کسی ادارے کو خطرہ لاحق ہو تو کیا ہمارے پاس ایسے وکلاء کی ٹیم ہے جو فوراً قانونی کارروائی شروع کر سکے؟
کیا ہمارے پاس ایسے ماہرین ہیں جو زمین اور تعمیرات کے ریکارڈ کا جائزہ لے سکیں؟
کیا ہر ضلع میں ایسے ذمہ دار افراد موجود ہیں جو مساجد، مدارس، قبرستانوں اور دیگر اوقاف کی
املاک کا ریکارڈ مرتب کر سکیں؟
کیا کوئی مرکزی نظام ہے جہاں ان تمام املاک کی دستاویزات محفوظ ہوں؟
اور اگر کل کسی دوسرے ادارے کے دروازے پر بلڈوزر پہنچ جائے تو کیا ہم صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ لکھنے کے لیے تیار ہیں یا قانونی میدان میں کھڑے ہونے کے لیے بھی؟
یہ وقت صرف افسوس کرنے کا نہیں، تیاری کرنے کا ہے۔
ہمیں ایک ایسا مستقل نظام بنانا ہوگا جو کسی ایک واقعے کے بعد فعال نہ ہو بلکہ ہر وقت کام کرتا رہے۔ ہر ضلع میں قانونی ماہرین، دستاویزات کے ماہرین، سماجی کارکنوں اور ذمہ دار شہریوں پر مشتمل ایک رابطہ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ مساجد اور مدارس کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ جہاں کمی ہو، اسے بروقت دور کیا جا سکتا ہے۔ خطرے میں موجود املاک کی فہرست تیار کی جا سکتی ہے اور ان کے لیے قانونی حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔
اس کام کے لیے پیسہ بھی چاہیے اور وقت بھی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم اپنی اجتماعی ترجیحات درست کر لیں تو کیا یہ وسائل پیدا نہیں کیے جا سکتے؟
ایک چھوٹا سا مستقل قانونی فنڈ، ہزاروں لوگوں کی معمولی معمولی معاونت سے تشکیل پا سکتا ہے۔ ایک ضلع کے چند سو لوگ اگر ہر ماہ معمولی رقم بھی جمع کریں تو سال کے اختتام تک ایک ایسا فنڈ وجود میں آ سکتا ہے جو کسی ضرورت مند مسجد یا مدرسے کے لیے فوری قانونی مدد کا ذریعہ بنے۔
اصل مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات کا ہے۔
ہم جذبات پر بہت خرچ کرتے ہیں، مگر نظام پر بہت کم۔ہم ردعمل بہت دیتے ہیں، پیش بندی بہت کم کرتے ہیں۔
ہم واقعہ ہونے کے بعد جاگتے ہیں، واقعہ ہونے سے پہلے تیاری نہیں کرتے۔
اور یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر معاملے میں انتظامیہ یا حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ جہاں ہماری اپنی انتظامی غفلت ہو، وہاںہمیں اسے تسلیم بھی کرنا ہوگا۔ اگر کسی مسجد یا مدرسے کے ذمہ داران نے برسوں تک اپنی زمین، عمارت یا قانونی دستاویزات کی طرف توجہ نہیں دی تو اس غفلت کا احتساب بھی ضروری ہے۔دینی ادارے صرف عبادت یا تعلیم کی جگہ نہیں ہوتے، وہ ایک امانت بھی ہوتے ہیں۔
اور امانت کی حفاظت صرف محبت سے نہیں، ذمہ داری سے ہوتی ہے۔
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اگر آج ہم نے اپنے اداروں کا ریکارڈ محفوظ نہ کیا، ان کی قانونی حیثیت واضح نہ کی، ان کے لیے قانونی ماہرین تیار نہ کیے اور اجتماعی سطح پر دفاع کا نظام قائم نہ کیا تو آنے والے برسوں میں ہمیں اس سے کہیں زیادہ سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی قوم کی طاقت صرف اس کے نعروں میں نہیں ہوتی۔ اصل طاقت اس کی تنظیم، علم، قانون فہمی، اتحاد اور مستقل مزاجی میں ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف جذباتی تقریریں سنانے کے بجائے قانون، دستاویزات، انتظام، تحقیق اور سماجی خدمت کی تربیت بھی دینی ہوگی۔
ہمیں ایسے وکیل چاہئیں جو ملت کے قانونی مسائل کو سمجھیں۔
ایسے صحافی چاہئیں جو کسی واقعے کے بعد نہیں بلکہ پہلے سے زمینی صورتحال پر نظر رکھیں۔
ایسے سماجی کارکن چاہئیں جو مقامی سطح پر لوگوں کو جوڑ سکیں۔
اور ایسے ذمہ دار منتظمین چاہئیں جو مسجد و مدرسے کی نگرانی کو صرف نماز، چندہ اور تعمیر تک محدود نہ سمجھیں۔
سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ہر مسئلے کے حل کے لیے یہ کہنا کہ "میرے اکیلے کرنے سے کیا ہوگا؟" دراصل اپنی ذمہ داری سے فرار کی ایک صورت ہے۔
تاریخ میں کوئی بڑی تبدیلی ایک دن میں نہیں آئی۔ ہر بڑے سفر کا آغاز ایک چھوٹے قدم سے ہوا ہے۔ اگر ایک شخص اپنی ذمہ داری سمجھ لے، پھر دس لوگ، پھر سو اور پھر ایک پورا شہر، تو وہی چھوٹی سی کوشش ایک تحریک بن سکتیہے۔
ہمیں ہر واقعے پر صرف ماتم نہیں کرنا، اس سے سبق بھی حاصل کرنا ہے۔
ہر منہدم ہوتی دیوار ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ آئندہ کسی دیوار کو صرف اینٹ اور سیمنٹ سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے مضبوط دستاویز، قانونی شعور، منظم قیادت، مالی وسائل اور اجتماعی بیداری بھی ضروری ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے میں نہیں، بلکہ ایک مضبوط نظام بنانے میں صرف کریں۔
مدارس کے لیے الگ قانونی نظام ہو۔
مساجد کے لیے دستاویزی نظام ہو۔
قبرستانوں کے لیے ریکارڈ اور حدود کا مکمل تحفظ ہو۔
اوقاف کی املاک کے لیے باقاعدہ نگرانی ہو۔
اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری قانونی کارروائی کا راستہ پہلے سے طے ہو۔
یہ کام کسی ایک شخص، ایک جماعت یا ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔ مگر اگر سب اپنی اپنی جگہ ایک قدم اٹھائیں تو راستہ ضرور نکل سکتا ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف ملبے کی تصویریں دیکھ کر افسوس کرنے والی قوم بننا چاہتے ہیں یا ان دیواروں کی حفاظت کرنے والی قوم بھی بننا چاہتے ہیں جنہیں ہماری اگلی نسلیں دیکھیں گی۔
شاید آج بھی وقت ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔
لیکن وقت ضرور تیزی سے گزر رہا ہے۔
اور قومیں صرف اس وقت نہیں مرتیں جب ان کی عمارتیں گرا دی جائیں؛ قومیں اس وقت بھی کمزور ہوتی ہیں جب ان کے اندر خطرے کو محسوس کرنے، منصوبہ بنانے اور قدم اٹھانے کی صلاحیت ختم ہو جائے۔
اس لیے اب شکوہ کم اور تیاری زیادہ ہونی چاہیے۔ماتم کم اور منصوبہ بندی زیادہ۔
شور کم اور تنظیم زیادہ۔
اور سب سے بڑھ کر، انتظار کم اور عمل زیادہ۔
کیونکہ آنے والے کل کا تحفظ آج کے فیصلوں سے ہی ممکن ہوگا۔
