Sep 21, 2026 09:56 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
*جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے فوائد اور ہماری اصلاح

*جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے فوائد اور ہماری اصلاح

27 Aug 2026
1 min read

*جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے فوائد اور ہماری اصلاح

مفتی کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی

اللہ رب العزت نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ اسے اپنی معرفت، عبادت اور اطاعت کے لیے پیدا کیا۔ انسان کو ہدایت کا راستہ دکھانے کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لائے اور بالآخر خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ‘‘

’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘(الأنبیاء: 107)

حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ آپ ﷺ نے انسان کو کفر و شرک، جہالت و گمراہی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توحید، علم، عبادت، اخلاق اور انسانیت کی روشنی عطا فرمائی۔ اسی عظیم نعمت کی یاد، خوشی اور شکرگزاری کا نام جشنِ عید میلاد النبی ﷺ ہے۔

لیکن میلاد النبی ﷺ کا اصل مقصد صرف محفل سجانا، چراغاں کرنا یا نعتیں پڑھنا نہیں، بلکہ محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بنانا ہے۔ اگر میلاد کی محفل سے ہمارے دل میں عشقِ رسول ﷺ بڑھے، اعمال درست ہوں، اخلاق سنوریں اور معاشرہ بہتر بنے تو یہی اس مبارک موقع کا حقیقی فائدہ ہے۔

*میلاد سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا فائدہ: محبتِ رسول ﷺ*

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

میلاد کی محافل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دلوں میں حضور ﷺ کی محبت تازہ ہوتی ہے۔ لیکن اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع بھی کریں۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:

’’قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ‘‘’’فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘(آل عمران: 31)

لہٰذا حقیقی محبت وہ ہے جو انسان کے کردار اور عمل میں ظاہر ہو۔

*میلاد اور عبادات کی اصلاح*

میلاد ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم اس نبی ﷺ کے امتی ہیں جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا طریقہ سکھایا۔ اس لیے میلاد کے بعد ہماری نمازوں میں پابندی، قرآنِ کریم سے تعلق، ذکر و اذکار اور توبہ و استغفار میں اضافہ ہونا چاہیے۔اگر کوئی شخص میلاد کی محفل میں شریک ہو لیکن نماز ترک کرتا رہے، قرآن سے دور رہے اور گناہوں کو نہ چھوڑے تو اسے اپنے عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ میلاد کا حقیقی فیض یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف لوٹ آئے۔

*اخلاق و کردار کی اصلاح*

رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ‘‘

’’اور بے شک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔‘‘(القلم: 4)میلاد ہمیں سکھاتا ہے کہ جھوٹ کے بجائے سچ، خیانت کے بجائے امانت، تکبر کے بجائے عاجزی، غصے کے بجائے بردباری، انتقام کے بجائے معافی اور نفرت کے بجائے محبت اختیار کریں۔

ہماری زبان بھی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق ہونی چاہیے۔ غیبت، بہتان، گالی، بدزبانی اور دل آزاری سے بچنا چاہیے۔ اسی طرح ہمارے کاروبار، ملازمت اور معاملات میں سچائی، امانت اور دیانت ہونی چاہیے۔

*والدین اور خاندان کی اصلاح*

میلاد النبی ﷺ کا ایک اہم فائدہ یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے گھروں میں محبت، ادب اور سکون پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے:

’’وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا‘‘

’’اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘(بنی اسرائیل: 23) لہٰذا میلاد کا پیغام یہ ہے کہ ہم والدین کی خدمت کریں، ان کے ساتھ نرمی سے گفتگو کریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ان کی دعائیں حاصل کریں۔

اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کریں اور گھر کو محبت و سنت کا مرکز بنائیں۔

*معاشرتی اصلاح اور اخوت*

حضور ﷺ نے نفرتوں کو ختم کرکے مسلمانوں کو اخوت و محبت کا درس دیا۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:

’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ‘      ‘’’بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘(الحجرات: 10)

اس لیے میلاد کا حقیقی فائدہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کریں، باہمی اختلافات کو دشمنی نہ بنائیں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں امن و خیر خواہی کو فروغ دیں۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہماری محافلِ میلاد کسی کے لیے تکلیف یا پریشانی کا سبب نہ بنیں۔ محبتِ رسول ﷺ کے نام پر دوسروں کے حقوق پامال کرنا اس محبت کی روح کے خلاف ہے۔ حقیقی میلاد وہ ہے جس سے دوسروں کو راحت، خوشی اور خیر پہنچے۔

*جہیز اور فضول رسموں سے اصلاح*

میلاد النبی ﷺ ہمیں سادگی اور آسانی کا درس بھی دیتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں جہیز، فضول اخراجات، نمود و نمائش اور غیر ضروری رسمیں 

بہت سے خاندانوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔

ہمیں میلاد کے موقع پر عہد کرنا چاہیے کہ نکاح آسان بنائیں گے، جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے، فضول خرچی اور دکھاوے سے بچیں گے اور بیٹی کے والدین پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالیں گے۔

*درود و سلام اور سیرت سے مستقل تعلق*

میلاد کے ایام ہمیں کثرت سے درود و سلام پڑھنے اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ لیکن درود و سلام صرف ربیع الاول تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ بھی سال بھر جاری رہنا چاہیے۔

ہم اپنی اولاد کو حضور ﷺ کی سیرت، آپ ﷺ کے اخلاق، عبادات، معاملات اور معاشرت سے روشناس کرائیں تاکہ ان کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ مضبوط ہو اور وہ عملی طور پر آپ ﷺ کی پیروی کریں۔

*میلاد ایک دن نہیں، زندگی کی اصلاح کا عہد ہے*

ہمیں میلاد النبی ﷺ کو صرف ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ زندگی بدلنے کا موقع سمجھنا چاہیے۔

حقیقی میلاد وہ ہے جس کے بعد:

ہماری نمازیں درست ہوجائیں۔قرآن سے تعلق مضبوط ہوجائے۔درود و سلام ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔سنت پر عمل کا جذبہ پیدا ہوجائے۔والدین ہم سے خوش ہوجائیں۔ہمارے اخلاق بہتر ہوجائیں۔ زبان غیبت اور بدزبانی سے محفوظ ہوجائے۔معاملات میں سچائی اور امانت پیدا ہوجائے۔غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کا جذبہ پیدا ہوجائے۔گھروں میں محبت اور سکون پیدا ہوجائے۔معاشرے میں اخوت، امن اور خیر خواہی فروغ پائے۔

چراغاں اور جھنڈیوں کی اپنی خوشی اور رونق ہے، مگر اصل ضرورت دل کے چراغ کو روشن کرنے کی ہے۔ یہ چراغ محبتِ رسول ﷺ، ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اتباعِ سنت سے روشن ہوتا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پوری انسانیت کے لیے عظیم نعمت ہے۔ ہمیں اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے کردار کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ بنانا چاہیے۔

آج ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہماری محبت صرف الفاظ میں نہیں ہوگی بلکہ ہمارے اعمال میں نظر آئے گی؛ ہماری زبان درود و سلام سے تر ہوگی، ہماری پیشانی نماز سے روشن ہوگی، ہمارے معاملات صداقت و امانت سے مزین ہوں گے، ہمارے گھر محبت و ادب کا گہوارہ ہوں گے اور ہمارا معاشرہ رحم، اخوت اور خیر خواہی کا نمونہ بنے گا۔

یہی جشنِ میلاد النبی ﷺ کا حقیقی فائدہ، یہی اس کی روح اور یہی ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، ادبِ مصطفیٰ ﷺ، اتباعِ سنت اور اخلاقِ نبوی ﷺ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ بنائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

از قلم:محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی

نائب ایڈیٹر، نیپال اردو ٹائمز

بنوٹا، مہوتری، نیپال

12/ربیع النور 1448ھ

26/اگست 2026ء، بروز بدھ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)