Aug 7, 2026 06:04 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مسلمانوں کی زبوں حالی : اسباب اور سد باب

مسلمانوں کی زبوں حالی : اسباب اور سد باب

02 Jul 2026
1 min read

مسلمانوں کی زبوں حالی : اسباب اور سد باب

      (بقلم: معظّم ارزاں شاہی 

دوست پوری)

تمہید: زوال کوئی حادثہ نہیں، مکافاتِ عمل ہے 

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں تلوار سے نہیں، کردار سے فتح پاتی ہیں۔ آج 57 مسلم ممالک، 2 ارب نفوس، تیل، گیس، سونا، نوجوان طاقت، سب کچھ ہونے کے باوجود ہم مقروض، محکوم اور منتشر ہیں۔ کیوں؟ 

قرآن نے 1400 سال پہلے فارمولا بتا دیا: "ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم" - الرعد:11۔ یعنی اللہ اس وقت تک کسی قوم کی تقدیر نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنے اندر کو نہ بدلے۔

کربلا کا میدان اسی آیت کی عملی تفسیر ہے۔ امام حسینؑ نے 72 کے مقابل 30 ہزار کا لشکر دیکھ کر سمجھوتہ نہیں کیا۔ کیونکہ آپ جانتے تھے: اصول پر سمجھوتہ ہی اصل موت ہے، سر کٹ جانا شہادت ہے۔

حصہ اول: زبوں حالی کے 7 بڑے اسباب - تفصیل سے

1.قرآن و سنت سے عملی دوری: کتاب زندہ ہے، قوم مردہ ہے 

ہم نے قرآن کو غلاف میں لپیٹ کر طاق پر رکھ دیا۔ شادی پر تلاوت، میت پر تلاوت، لیکن فیصلے انگریزی قانون سے، کاروبار سودی نظام سے، اور سیاست مغربی جمہوریت سے۔  مثال: سود کو اللہ نے "اللہ اور رسول سے جنگ" کہا، مگر آج مسلمان ملکوں کے مرکزی بینک IMF کے سودی قرضے پر چل رہے ہیں۔ نتیجہ؟ ہر پیدا ہونے والا بچہ مقروض پیدا ہوتا ہے۔ 

نقصان: جب دستورِ حیات چھوڑ دیا تو برکت اٹھ گئی۔ رزق میں، وقت میں، عزت میں۔

2. تعلیم میں دوغلا پن: ملا اور مسٹر کی تقسیم  انگریز نے جاتے جاتے ہمیں دو طبقوں میں بانٹ دیا۔ ایک "مولوی" جو راکٹ کا نام سن کر ڈر جائے، دوسرا "پڑھا لکھا" جو وضو کے فرائض نہ جانتا ہو۔ 

1تاریخی حقیقت

: ابن سینا ڈاکٹر بھی تھا، حافظ بھی۔ البیرونی سائنسدان بھی تھا، مفسر بھی۔ جابر بن حیان کیمیا کا باپ بھی تھا، امام جعفر صادقؑ کا شاگرد بھی۔ نقصان: آج ڈاکٹر دل کا آپریشن کر لیتا ہے مگر نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ مولوی مسئلہ بتا دیتا ہے مگر لیپ ٹاپ نہیں چلا سکتا۔ امت دو لاشوں میں بٹ گئی۔

3. فرقہ واریت: 72 کی حدیث کو 72 فرقوں کا لائسنس بنا دیا نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت 73 فرقوں میں بٹے گی، 1 جنتی ہوگا۔ ہم نے "جنتی" فرقہ ڈھونڈنے کے بجائے 72 فرقے بنا لیے۔ 

المیہ: شیعہ سنی کا جھگڑا، بریلوی دیوبندی کی بحث، اہلحدیث کی تکفیر۔ مسجدیں الگ، جنازے الگ، عیدیں الگ۔ دشمن نے فائدہ اٹھایا۔ 

قرآنی حکم: "واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا" - اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ آل عمران:103

4. اخلاقی دیوالیہ: "صادق و امین" کا لقب چھن گیا 

مکہ کے کافر بھی نبی ﷺ کے پاس امانتیں رکھواتے تھے۔ آج مسلمان تاجر سے غیر مسلم مال نہیں خریدتا۔ کیوں؟ 

بازار کا حال: جھوٹی قسم، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، وعدہ خلافی۔ دفتر کا حال: رشوت، سفارش، کام چوری۔ گھر کا حال: والدین سے بدتمیزی، طلاق کی شرح۔ 

حدیث: "من غشنا فليس منا" - جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ ہم نے غش کو "بزنس ٹپس" بنا لیا۔

5. معاشی غلامی: زکوٰۃ ختم، سود عام 

اسلام کا معاشی نظام 3 ستونوں پر تھا: زکوٰۃ، صدقہ، وقف۔ آج تینوں ختم۔ نتیجہ: 1% لوگوں کے پاس 99% دولت۔ 

سود کا عذاب: فلسطین، کشمیر، شام کے لیے چندہ مانگتے ہیں، اور اپنے بینکوں میں سود کا پیسہ رکھواتے ہیں۔ اللہ سے جنگ کر کے ہم جیتنا چاہتے ہیں؟ 

مدینہ ماڈل: بیت المال سے ہر شہری کی بنیادی ضرورت پوری ہوتی تھی۔ کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا، کوئی قرضدار خودکشی نہیں کرتا تھا۔

6. سیاسی انتشار: 57 ٹکڑے، صفر طاقت 

OIC کے 57 ملک ہیں، مگر اقوام متحدہمیں ایک قرارداد پاس نہیں کرا سکتے۔ وجہ؟ ہر بادشاہ کو اپنی کرسی عزیز ہے، امت نہیں۔ 

تاریخ کا سبق: جب تک بغداد ایک تھا، تاتاری کچھ نہ بگاڑ سکے۔ جب خلیفہ اور سلاطین لڑ پڑے، ہلاکو نے لائبریریاں دریا میں بہا دیں۔ آج پھر وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔

7. تہذیبی احساسِ کمتری: نقالی میں فخر 

اپنے بچے کا نام "محمد" رکھتے ہوئے شرم، "مائیکل" رکھتے ہوئے فخر۔ عربی بولے تو "مولوی"، انگریزی بولے تو "ماڈرن"۔  حقیقت: یورپ نے ترقی سائنس سے کی ہے، بے حیائی سے نہیں۔ جاپان نے اپنی زبان نہیں چھوڑی، ہم نے چھوڑ دی۔ نتیجہ: نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔

حصہ دوم: سد باب - زوال سے عروج کے 6 عملی راستے1. علم کا انقلاب: قرآن + لیپ ٹاپ  فوری قدم: ہر مسجد میں عصر کے بعد 1 گھنٹہ "دنیاوی تعلیم"۔ فزکس، کیمسٹری، کمپیوٹر پڑھایا جائے۔ ہر اسکول میں صبح 1 پیریڈ "قرآن فہمی" لازمی۔ 

نمونہ: ترکی کی امام خطیب اسکولز - جہاں بچہ حافظ بھی بنتا ہے، انجینئر بھی۔ آج ترکی ڈرون بنا رہا ہے۔

2. کردار سازی: تاجر سے پہلے مسلمان بنو  عملی فارمولا: "صادق امین شاپ" کے نام سے دکانیں کھولیں۔ بورڈ لگائیں: "یہاں جھوٹ نہیں بولا جاتا، ملاوٹ نہیں ہوتی، وعدہ نہیں ٹوٹتا"۔ گاہک خود آئے گا۔ 

گھر میں: بیٹے کو کہیں "پہلے انسان بنو، پھر ڈاکٹر"۔ بیٹی کو کہیں "پہلے حیا والی بنو، پھر آفیسر"۔3. معاشی جہاد: سود چھوڑو، زکوٰۃ دو  انفرادی: اپنا بینک اکاؤنٹ کرنٹ کریں، سیونگ نہیں۔ کاروبار میں پارٹنرشپ کریں، سودی قرضہ نہیں۔ 

اجتماعی: محلے کی سطح پر "بیت المال" بنائیں۔ ہر صاحبِ حیثیت 2.5% دے۔ اس سے بیوہ کی مدد، بچے کی فیس، بے روزگار کا کاروبار۔ مدینہ پھر سے آباد ہو سکتا ہے۔

4. اتحاد کا منشور: 4 نکات پر اکٹھے ہو جاؤ  1. اللہ ایک 2. نبی ﷺ آخری 3. قرآن آخری کتاب 4. قبلہ ایک۔ 

اس پر جو متفق ہے وہ بھائی ہے۔ باقی فقہی اختلاف "رحمت" ہے، "لعنت" نہیں۔ محرم میں سب "یا حسینؑ" کہیں، عید پر سب "اللہ اکبر" کہیں۔5. اصلاحِ نفس: انقلاب اپنے کمرے سے شروع کرو  روز رات کو 5 منٹ محاسبہ: 1. آج جھوٹ بولا؟ 2. نماز قضا کی؟ 3. کسی کا دل دکھایا؟ 4. وقت ضائع کیا؟ 

جس دن یہ 4 سوال "نہیں" میں ہوں، سمجھو انقلاب آ گیا۔ 2 ارب لوگ بدل جائیں تو دنیا بدل جائے گی۔

6. حسینی مشن: ہر گھر سے ایک حسینؑ پیدا کرو  امام حسینؑ نے صرف کربلا میں نہیں، پوری زندگی میں یزیدیت کا انکار کیا۔ یزیدیت کیا ہے؟ جھوٹ، ظلم، سود، بے حیائی، بزدلی۔  آج کا کربلا: جب رشوت دینے کا موقع آئے تو "مثلی لا یبایع مثلہ" کہہ دو۔ جب سود کا فارم سامنے آئے تو کہہ دو "میں حسینؑ کا ماننے والا ہوں"۔ یہی اصل عزاداری ہے۔خاتمہ: تسبیح اور لیپ ٹاپ کا سنگم صلاح الدین ایوبیؒ سے پوچھا گیا: آپ کی فتح کا راز؟ فرمایا: "میری فوج کی راتیں سجدوں میں اور دن گھوڑوں پر گزرتے ہیں"۔  آج ہمارے نوجوان کی راتیں ٹک ٹاک پر اور دن بیروزگاری میں گزرتے ہیں۔حتمی نسخہ: ایک ہاتھ میں تسبیح، دوسرے میں لیپ ٹاپ۔ دل میں قرآن، دماغ میں سائنس۔ زبان پر درود، عمل میں دیانت۔ یہ ہو گا "نیا مسلمان" - جو 21ویں صدی فتح کرے گا۔یاد رکھیں: کربلا والے نے سر دے دیا، اصول نہیں دیا۔ ہم اصول دے کر سر بچانا چاہتے ہیں۔ جب تک یہ ترجیح نہیں بدلے گی، زوال نہیں رکے گا۔

"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی ہی حالت کے بدلنے کا"

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)