علمائے سو کی بے راہ روی اور معاشرے کی تباہی
اللہ رب العزت نے اس کائنات رنگ و بو کو ہزاروں مخلوقات کی رہائش اور بود و باش کے لیے تخلیق فرمایا، اور اس کے بعد اشرف المخلوقات یعنی انسان کو تمام مخلوقات پر عزت و تکریم سے نوازا۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
’’وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ‘‘
’’اور ہم نے بنی آدم کو یقیناً عزت و تکریم عطا فرمائی‘‘۔(سورۃ الاسراء: 70)
پھر انسانوں میں بھی اللہ تعالی نے درجات کو بلند کیا؛ انبیاء، صحابہ، تابعین، اولیاء، صلحاء اور علماء کو علم و تقویٰ کی بنیاد پر خاص مقام و مرتبے سے سرفراز فرمایا۔ تمام انبیاءِ کرام علیہ السلام نے فریضۂ رسالت کو احسن طریقے سے نبھایا۔ ختمِ نبوت کے بعد انبیاء کے اس عظیم الشان مشن یعنی دین کی حفاظت، اشاعت اور اصلاحِ امت کی ذمہ داری علماء کے کندھوں پر آئی، کیوں کہ حدیثِ پاک میں ارشاد ہے:
’’إنَّ العُلَماءَ وَرَثَةُ الأَنبِياءِ‘‘
’’بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں‘‘۔ (سنن ابی داؤد: 3641)
تاریخ شاہد ہے کہ صحابہ، تابعین، اولیاء اور علماءِ حق نے اس ذمہ داری کو اپنے خون اور تقویٰ سے نبھایا۔ فی زماننا بھی سچے اور باعمل علماءِ حق اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں، اور آج دنیا بھر میں اسلام کی جو چمک دمک، روایتی رونق اور دینی بیداری نظر آتی ہے، وہ انہی علماءِ حق کے اخلاص اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
تاریخی تناظر اور فتنوں کا تسلسل
ہر دور میں اسلام اور اہلِ حق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ کبھی ابلیسِ لعین، فرعون، نمرود، ابو جہل اور یزید کی شکل میں، تو کبھی باطل افکار، گمراہ کن تحریکوں اور فتنہ پرور ذہنیتوں کی صورت میں۔ ہر دور کے فتنہ پروروں نے اسلام کی عالمگیر پیش رفت کو سست کرنے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی ناپاک سازشیں کیں۔
عصرِ حاضر میں بھی وہی فتنہ پرور ذہنیت مختلف شکلوں میں ابھر کر سامنے آ رہی ہے، جو علماءِ حق کے کاموں میں رکاوٹ بنتی ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن رہی ہے۔ یہ صورتِ حال دراصل نبی کریم ﷺ کی پیش گوئیوں کا مظہر ہے۔ رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دُجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لاَ يُضِلُّونَكُمْ وَلاَ يَفْتِنُونَكُمْ‘‘۔
’’آخری زمانے میں ایسے دجال اور جھوٹے لوگ ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی (من گھڑت) باتیں لائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباؤ اجداد نے۔ پس اپنے آپ کو ان سے دور رکھنا، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں‘‘۔ (صحیح مسلم: مقدمہ)
عصرِ حاضر میں علمائے سو اور ان کی بے راہ روی
آج جب ہم اپنے معاشرے کا عمیق جائزہ لیتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دینی و اخلاقی تنزلی اور دینی بیزاری کا ایک بڑا سبب وہ "علمائے سو" (برے علماء) ہیں جن کا مقصد دین کی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد، شہرت اور فرقہ وارانہ منافرت کا فروغ بن چکا ہے۔
قرآنِ کریم میں علمائے سو کی مثال دیتے ہوئے فرمایا گیا:
’’فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ‘‘
’’پس اس کی مثال کتے کی سی ہے، اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان نکالے رہے اور چھوڑ دو تب بھی زبان نکالے رہے‘‘۔ (سورۃ الاعراف: 176)
آج معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، اس کی چند بنیادی وجوہات یہ ہیں:
دینی ممبر و محراب کی بے حرمتی: منبر و محراب جو ہدایت و تربیت کا مرکز تھے، آج
نااہل خطباء اور شہرت کے جاہل طالب
بعض مقامات پر اکھاڑہ اور مسخرہ گاہ بن چکے ہیں جہاں علم، اخلاق اور حکمت کے بجائے نعرے بازی اور سستی شہرت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
علماءِ حق کی توہین:
آئے دن جلیل القدر علماء اور سلف صالحین کی تحقیر و تذلیل کر کے عوام میں بدگمانی پھیلاتے ہیں۔
تعصب اور نا اہلوں کی فتویٰ نویسی:
علم و تقویٰ سے آرستہ نہ ہونے والے افراد محض اپنے تعصب، انا اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تکفیر اور گمراہی کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں، جس سے امت میں انتشار پھیلتا ہے۔
جہالت اور پیر پرستی کی سرپرستی:
ذات برادری کے تعصبات، جاہل پیروں کی غنڈہ گردی اور توہم پرستی کو دینی غلاف پہنا کر عوام کو گمراہی کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔
معاشرے اور عوام پر پڑنے والے مضمر اثرات
اس فتنہ پروری کا سب سے دردناک نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عوامِ الناس دینی تعلیمات اور علماء دونوں سے دور ہو رہے ہیں۔
جب عوام علماء کے رویوں میں تضاد، لغو گفتگو اور آمیزش دیکھتے ہیں، تو ان کے دلوں سے دین کی عظمت اور احترام کم ہونے لگتا ہے۔
علمائے سو کی فتنہ پروری کی وجہ سے سچے اور مخلص علماء کی بااثر اور اصلاحی باتیں بھی لوگ سنجیدگی سے نہیں سنتے۔
ہماری نئی نسل جو منطق اور عمل کی تلاش میں ہے، جب دینی اسٹیجوں پر علمی گفتگو کے بجائے تفریح اور جھگڑے دیکھتی ہے تو وہ الحاد اور مادیت پرستی کی طرف مائل ہونے لگتی ہے۔
حدیثِ پاک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا... ان کے علماء آسمان کے نیچے کے بدترین لوگ ہوں گے، انہی سے فتنہ اٹھے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا‘‘۔ (بیہقی، شعب الایمان: 1908)
اصلاحی اقدامات اور وقت کی ضرورت
اگر اس سیلابِ بلا کو بروقت نہ روکا گیا، تو بے
لگام خطباء، غیر ذمہ دار نقباء اور فتنہ پرور عناصر اسلام کے تقدس اور اس کے روزِ روشن جیسے شفاف تشخص کو دنیا کے سامنے مجروح کر دیں گے، جس سے دعوتی اور اشاعتی دروازے بند ہو جائیں گے۔
اس اہم موڑ پر ملکی و ملی سطح پر مندرجہ ذیل اقدامات کی اشد ضرورت ہے:
ملت کے سنجیدہ علماء، فقہاء اور مفکرین کو متحد ہو کر ان فتنہ پرور عناصر کا علمی و عملی محاصرہ کرنا ہو گا۔
دینی اجلاس اور جمعہ کے خطبات کے لیے علمی معیار قائم کیا جائے، اور غیر مستند و غیر ذمہ دار خطباء پر پابندی لگائی جائے۔
فتویٰ نویسی کو صرف صاحبِ صلاحیت، متقی اور جامعہ کے مستند مفتیانِ کرام تک محدود رکھا جائے تاکہ تکفیری اور فتنہ انگیز فتاویٰ کا سدِ باب ہو سکے۔
عوام کو یہ شعور دیا جائے کہ وہ دین کو مسخرہ بنانے والے خطباء کے بجائے صاحبِ علم، باعمل اور بااخلاق علماء کی صحبت اختیار کریں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ علمائے حق امت کا سرمایہ ہیں اور علمائے سو امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں سچے اور باعمل علماء کی سرپرستی میں آ کر اصلاحِ احوال کی جدوجہد کرنی ہو گی۔
اخیر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمارے تمام علماء، فضلاء اور دانشورانِ ملت کو عقلِ سلیم، بصیرتِ تامہ اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پروردگارِ عالم ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو علمائے سو اور ہر قسم کے داخلی و خارجی فتنوں سے محفوظ فرمائے، اور علماءِ حق کے فیض کو تا قیامت جاری و سارِ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
از قلم : محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی
نائب ایڈیٹر: نیپال اردو ٹائمز
بنوٹا، مہوتری، نیپال
7/ صفر المظفر 1448ھ
23/07/2026 بروز جمعرات
