Aug 7, 2026 06:07 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نفرت کی آگ نہیں، امن کا چراغ جلائیے‘وزیر اعظم بالن شاہ کی قوم سے درد بھری اپیل

نفرت کی آگ نہیں، امن کا چراغ جلائیے‘وزیر اعظم بالن شاہ کی قوم سے درد بھری اپیل

01 Aug 2026
1 min read

’نفرت کی آگ نہیں، امن کا چراغ جلائیے‘وزیر اعظم بالن شاہ کی قوم سے درد بھری اپیل 

مولانا مشہود خاں نیپالی 

لمبنی پردیش نیپال

کٹھمنڈو: سنسری، سرہا اور ملک کے دیگر علاقوں میں حالیہ کشیدگی اور پرتشدد واقعات کے بعد وزیر اعظم والیندر شاہ "بالن" نے قوم سے ایک جذباتی اور اہم خطاب کرتے ہوئے عوام سے صبر و تحمل، اتحاد و یگانگت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت ملک میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے پوری طرح بیدار، حساس اور سرگرم ہے اور کسی بھی صورت میں نفرت، تشدد اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز ان خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی سے کیا، جنہوں نے حالیہ واقعات میں اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ انہوں نے جے پرکاش مہتا، اوم پرکاش مہتا اور گنیش یادو کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ حکومت غم زدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ علاج و معالجے کے عمل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ برتی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر متاثرہ شہری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے۔ وزیر اعظم بالن شاہ نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی ادارے حرکت میں آ گئے تھے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس دوران وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جو تمام پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تحقیقات کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ملک میں امن و استحکام کی فضا بحال کرنے کے لیے کل جماعتی اجلاس منعقد کیا گیا ہے، جب کہ مقامی نمائندوں، سماجی رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور مختلف برادریوں کے سرکردہ افراد سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ باہمی اعتماد کی فضا کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ خود متاثرہ علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں، جب کہ قومی سلامتی کونسل نے بھی حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر ضروری فیصلے کیے ہیں۔ وزیر اعظم بالن شاہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جھوٹی خبروں، بے بنیاد افواہوں اور نفرت انگیز مواد پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی غیر مصدقہ خبر پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر بھروسا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا قیام اور ملک میں امن و سکون کو برقرار رکھنا ہے، اس لیے حکومت کسی بھی ایسے عمل کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، جو قومی اتحاد اور سماجی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے مذہبی رواداری اور انسانی اقدار پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیپال کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب، ثقافت اور روایات کے مطابق زندگی گزارنے کا بنیادی حق دیتا ہے اور حکومت اس حق کے تحفظ کے لیے پوری طرح پابندِ عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب نفرت، تعصب، تشدد اور تقسیم کا درس نہیں دیتا، بلکہ تمام مذاہب محبت، رحم، ہمدردی اور امن کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے بقول کسی ایک مقام پر پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کی بنیاد پر کسی پورے طبقے یا برادری کو مورد الزام ٹھہرانا اور دوسرے علاقوں میں انتقام کی آگ بھڑکانا ہرگز مناسب نہیں۔ وزیر اعظم بالن شاہ نے قوم کو یاد دلایا کہ نیپال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اتحاد، رواداری، صبر اور باہمی اعتماد نے ہی قوم کو مضبوط بنایا ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوام، مذہبی رہنماؤں، سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں سے پُرزور اپیل کرتے ہوئے کہا: "نفرت کی آگ مت بھڑکائیے، بلکہ امن کا چراغ روشن کیجیے، کیوں کہ قومی اتحاد، بھائی چارہ اور باہمی احترام ہی ایک مضبوط اور پُرامن نیپال کی بنیاد ہیں۔"مولانا مشہود خاں نیپالی

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)