نیپال میں فرقہ وارانہ تشدد ،ہیلی کاپٹر سے مانیٹر نگ
نیپال کر کوشی اور مدھیش صوبوں میں گزشتہ ہفتہ کے دوران بڑھتے ہو فرقہ وارانہ تشدد میں تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں،انتظامیہ کے کئی اضلاع میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نمائندہ نیپال اُردو ٹائمز
کھاٹمنڈو نیپال سید ظہیر احمد فنا۔۔ ہندوستان کی سرحد سے متصل نیپال کی کوشی اور مدھیش صوبوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔صورت حال کے پیش نظر انتظامیہ نے کئی اضلاع میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کر دیا ہے اور سیکورٹی سخت کردی ہے جب کے فوج نے سڑکوں اورخساس علاقوں کی نگرانی کے لئے ہیلی کاپٹروں کو تعنیات کردیا ہے,دریں اثنا نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے قوم سے اپنے خطاب میں تمام شہریوں سے اامن اہم آہنگی بھائی چارہ اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے انہوں نے اپنا پیغام میتھلی زبان میں دیا تاکہ ان کا پیغام سرحدیعلاقوں کے لوگوں تک پہنچ سکے۔۔یہ تشدد اتوار کو صوبے کوشی کے سناتی ضلع میں دیوان گنج دیہی میونسیپالٹی کے کپتان گنج علاقے میں شروع ہوا ۔دو مذہبی برادریوں کے اجتماع کے دوران تنازع بڑھ گیا۔۔جس کے نتیجے میں دونوں فریقین میں تصادم ہوا،۔جب صورت حال بگڑ گئی تو پولس نےبھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کی۔۔ جمعرات کو یہ تشدد صوبے مدھیسی ضلع کے سراپا کے گول بازار میں پھیل گیا،دوگروپوں کے تصادم دوران 15 سالہ گنیش یادو زخمی ہوگیا ۔۔اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا،لیکن علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔جے پرکاش مہتا ۔جو سنساری تشدد میں زخمی بھی ہوئے تھے ۔جمعرات کوبرات نگر کے نیورو اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جل بسے ۔اس سے صرف ایک ہفتے میں تشدد میں فرقہ وارانہ تشدد سے مرنے والوں کی تعداد تین ہوگئ ۔۔نیپال کے صدر رام چندر پاڈیل نےبھی تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔۔انہوں نے کہا کے نیپال اپنی کسیرلسقافتی کسیر النفس اور کسیر المذاہبی روایات کے حامل ہے۔۔انہوں نے تمام شہریوں سے سماجی ،مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم اہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔صدر نے متعلقہ اداروں کع ہدایت کی کہ تشدد کے غیر جانبداری اور حقائق پر مبنیکی جائیں اورقصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے ۔اڈ تشدد کا معاملہ نیپال کی پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا گیا ،نیپالی کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بسنا تھاپا اور لیبر کلچر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور ین رائے سمیت کئی ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومت کی توجہ سنساری اور جنوبی نیپال کے دیگر سرحدی اضلاع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی طرف مبذول کرائی ۔۔انہوں نے حکومت سے فری طور پر صورت حال پر قابو پانے اور عوام کے تحفظات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ۔۔سنساری، سرپا دھنوشاہ ،پارسا،اور مدھیش کوشی خطے کے دیگر اضلاع کی سرحدیں ہندوستانی ریاست بہار سے ملتی ہیں ۔۔ان علاقوں کو ہندوستان اور نیپال کے درمیان تجارت اور عوام سے عوام کی نقل و حرکت کے لئے اہم سمجھا جاتا ہے۔۔
