Nov 8, 2026 01:56 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر مذاکرے کا انعقاد

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر مذاکرے کا انعقاد

29 Oct 2026
1 min read

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر مذاکرے کا انعقاد

پریس ریلیز

کاٹھمانڈو: نیپال میں پاکستان کے سفارت خانے نے 29 اکتوبر 2026 کو یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ’’بین الاقوامی سفارت کاری اور مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کا مقصد 27 اکتوبر 1947ء کے 79ویں یومِ سیاہ کی یاد منانا تھا، جب بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کا آغاز ہوا۔ پروگرام میں نیپال کے ممتاز صحافیوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور دیرینہ تنازعِ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول میں بین الاقوامی سفارت کاری کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔

تقریب کے دوران صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف اور کشمیری عوام کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ اپنے پیغام میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر

 (IIOJK) میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، بالخصوص 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متعلقہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعِ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازع کے متعلقہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل پر ہے۔ انہوں نے بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں اور کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی مسلسل قید کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کشمیری عوام کو اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تنازعِ کشمیر کے منصفانہ، پُرامن اور پائیدار حل کے لیے متعلقہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مرکزی اہمیت

کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق مسلسل تشویش ناک صورتِ حال اور بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ، بالخصوص ان کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر مسلسل اور مؤثر سفارتی کوششوں پر زور دیا۔ تقریب کے اختتام پر نیپال میں پاکستان کے سفیر عزت مآب جناب محمد عامر خان نے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کی جانب پیش رفت کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششوں کو مسلسل اور بامعنی انداز میں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے تحفظ اور اس کی تکمیل کے لیے عالمی سطح پر نئی اور مؤثر کوششوں کی اپیل کی۔

تقریب میں شریک افراد نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کی جائز امنگوں کی تکمیل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ سفارت خانہ پاکستان کٹھمنڈو 29 اکتوبر 2026ء

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)