" غزل "
کس کی سنتا ہے، کس کی مانی ہے
عشق میں مطلق العنانی ہے
ہوش ہے پھر بھی خود سے بے خبری
جانے کیا چیز نو جوانی ہے
دِل سے بوۓ وطن نہیں جاتی
لاکھ غربت میں قدر دانی ہے
دِل کے ہونے سے یہ ہُوا معلوم
کیا سمندر کی بیکرانی ہے
کتنے دریا ہیں موجزن مجھ میں
کس کی آنکھوں میں اِتنا پانی ہے
وضعداری ابھی جو ہے قائم
یہ وراثت بھی خاندانی ہے
لفظ میرا طواف کرتے ہیں
اب طبیعت میں وہ روانی ہے
فن کو پہنچا ہے آج جو تابش
زندگی بھر کی جاں فشانی ہے
( یو۔ پی ) پن۔ 224120
موبائل۔ 9580228003
