Sep 21, 2026 09:56 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
علم کی زینت تواضع ہے، انسانیت کی زینت دردِ دل

علم کی زینت تواضع ہے، انسانیت کی زینت دردِ دل

20 Aug 2026
1 min read

علم کی زینت تواضع ہے، انسانیت کی زینت دردِ دل

شرف الدین سید ۔

9342522346

علم انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ دنیا میں کیا ہے؛ وہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کتنا کچھ ایسا ہے جسے ہم ابھی نہیں جانتے۔ شاید اسی لیے علم کی اصل زینت غرور نہیں، تواضع ہے؛ اور انسانیت کی اصل پہچان الفاظ نہیں، دردِ دل ہے۔ علم ایک بے کنار سمندر ہے۔ اس کا نہ کوئی آخری کنارہ ہے، نہ کوئی ایسی منزل جہاں پہنچ کر انسان کہہ سکے کہ اب جاننے کو کچھ باقی نہیں۔ وقت کے ساتھ تجربہ بڑھتا ہے، مطالعہ وسیع ہوتا ہے، فکر میں پختگی آتی ہے، مگر ایک سچے صاحبِ علم کے اندر اپنی کم مائیگی کا احساس بھی بڑھتا جاتا ہے۔ وہ جتنا جانتا ہے، اتنا ہی محسوس کرتا ہے کہ اس کے علم کی حدود کتنی مختصر ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی چند کتابیں، چند مضامین، چند تعریفیں اور تھوڑی سی شہرت انسان کے اندر حروف کا غرور پیدا کر دیتی ہیں۔ پھر اسے اپنی رائے، اپنی تحریر اور اپنے علم سے باہر کی ہر بات کم تر دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اختلافِ رائے جہالت کی علامت نہیں، بلکہ زندہ فکر کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

تحریر کا مقصد اثر پیدا کرنا ضرور ہے، مگر اثر اور غرور میں بہت معمولی سا فاصلہ ہے۔ جب تعریفیں مسلسل ملنے لگیں تو انسان کو اپنے اندر جھانکتے رہنا چاہیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن حروف کو وہ دوسروں کے دل روشن کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، وہی حروف اس کے اپنے دل کی کھڑکیاں بند کر رہے ہیں؟

علم اگر انسان کو نرم نہیں کرتا تو وہ محض معلومات کا بوجھ ہے۔ تحریر اگر دل میں درد پیدا نہیں کرتی تو وہ صرف لفظوں کی آرائش ہے۔ اور مذہب اگر انسان کو انسان کا احترام 

نہیں سکھاتا تو اس کی روح کہیں نہ کہیں ہم 

سے اوجھل ہو گئی ہے۔

ہماری دنیا میں قوانین کم نہیں، ادارے کم نہیں، تحقیق کم نہیں، تعلیم کم نہیں؛ مگر مسائل پھر بھی موجود ہیں۔ قتل کے خلاف قوانین ہیں، سزائیں ہیں، عدالتیں ہیں، پھر بھی قتل ہوتے ہیں۔ بدعنوانی روکنے کے لیے ادارے ہیں، نگرانی ہے، ضابطے ہیں، پھر بھی بدعنوانی زندہ ہے۔ سڑکیں پہلے سے بہتر ہیں، گاڑیاں پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں، مگر حادثات کم ہونے کے بجائے کئی جگہ بڑھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قوانین، ادارے یا تعلیم بے فائدہ ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان سب کے باوجود انسان کہاں کھڑا ہے؟

ہم نے نظام تو بنائے، مگر کیا ہم نے انسان بھی بنایا؟ ہم مذہب کے نام پر فخر کرتے ہیں، اپنی تہذیب کو عظیم کہتے ہیں، اپنی سرزمین کو مقدس قرار دیتے ہیں، اپنی جمہوریت کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ قابلِ احترام دعوے ہیں۔ مگر کسی تہذیب کی عظمت کا اصل امتحان اس کے نعروں میں نہیں، اس کے انسانوں کے رویوں میں ہوتا ہے۔

اگر عبادت گاہیں آباد ہوں مگر دل ویران ہوں، اگر زبان پر امن ہو مگر ہاتھ ظلم کے لیے اٹھیں، اگر کتابیں مقدس ہوں مگر انسان بے قدر ہو جائے تو ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے اندر دیکھنا چاہیے۔

تہذیب وہ نہیں جو ہم اپنے بارے میں کہتے ہیں؛ تہذیب وہ ہے جو ہمارے رویے دوسروں کو محسوس کراتے ہیں۔

آج ہمارے ہاتھ میں ایک عجیب و غریب طاقت ہے: سوشل میڈیا۔ یہاں ہم ایسے لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں جنہیں شاید ہم زندگی بھر کبھی نہ دیکھیں۔ نہ ان کی عمر معلوم، نہ ان کا پیشہ، نہ ان کا سماجی مقام، نہ 

ان کی زبان مکمل طور پر معلوم۔ پھر بھی چند الفاظ کے ذریعے دل ایک دوسرے تک پہنچ جاتے ہیں۔

یہ انسانی تاریخ کا ایک خوبصورت امکان ہے۔ مگر اسی امکان کو ہم نفرت، طنز، تحقیر اور الزام کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ایک جملہ لکھنے سے پہلے ہم یہ نہیں سوچتے کہ سامنے والا بھی ایک دل رکھتا ہے۔ وہ بھی دکھتا ہے، خوش ہوتا ہے، پریشان ہوتا ہے، تنہا ہوتا ہے اور کبھی کبھی صرف ایک اچھے جملے کا محتاج ہوتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسکرین کے دوسری طرف بھی ایک انسان موجود ہے۔

اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے۔ سوال اٹھائیے، دلیل دیجیے، غلطی کی نشاندہی کیجیے؛ مگر انسان کو اس کی رائے سے الگ کرکے دیکھیے۔ کسی خیال کو رد کرنا آسان ہے، کسی انسان کو رد کرنا خطرناک ہے ۔ اختلاف میں بھی شائستگی باقی رہ سکتی ہے اور تنقید میں بھی محبت کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ دنیا کو شاید ایک اور بلند آواز کی ضرورت نہیں؛ اسے کچھ نرم دل انسانوں کی ضرورت ہے۔

ایسے انسان، جو اپنے علم پر فخر کرنے کے بجائے دوسروں سے سیکھ سکیں۔ ایسے لکھنے والے، جو اپنی تحریر سے پہلے اپنے دل کو پڑھ سکیں۔

ایسے مذہبی لوگ، جن کے کردار سے مذہب کی خوبصورتی دکھائی دے۔

ایسے دانشور، جو اختلاف کو دشمنی نہ سمجھیں۔

اور ایسے عام انسان، جو کسی اجنبی کے دکھ کو بھی اپنا دکھ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

آخرکار ہماری زندگی کا حساب شاید ہماری کتابوں کی تعداد سے نہیں ہوگا، نہ ہماری شہرت کی بلندی سے، نہ ہماری سوشل میڈیا مقبولیت سے۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ ہم نے کتنے دلوں کو سکون دیا، کتنے دلوں کو ٹوٹنے سے بچایا اور کتنی جگہوں پر انسان ہونے کا حق ادا کیا۔

اس لیے جو چاہیں لکھیے، جتنا چاہیں لکھیے، اپنے علم کو آگے بڑھائیے، اپنی رائے کا اظہار کیجیے

؛ مگر حروف کے غرور میں گرفتار نہ ہوئیے۔

علم ہمیں اونچا اٹھائے تو خوب؛ مگر اتنا بھی نہیں کہ ہمیں اپنے سے نیچے کوئی انسان دکھائی ہی نہ دے۔

آئیے، اپنے الفاظ کو تھوڑا نرم، اپنے اختلاف کو تھوڑا مہذب، اپنے علم کو تھوڑا متواضع اور اپنے دل کو تھوڑا وسیع کرلیں۔ شاید دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے انقلاب کی ضرورت نہیں ہوتی۔کبھی کبھی ایک نرم لہجہ، ایک معافی، ایک اعتماد، ایک اچھا جملہ اور ایک درد مند دل بھی کسی کی پوری دنیا بدل دیتا ہے۔

علم کی زینت تواضع ہے، اور انسانیت کی زینت دردِ دل۔باقی سب کچھ عارضی ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)