Sep 21, 2026 09:55 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
*سیرتِ طیبہ ﷺ: اصلاحِ فرد سے تعمیرِ معاشرہ تک، عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی*

*سیرتِ طیبہ ﷺ: اصلاحِ فرد سے تعمیرِ معاشرہ تک، عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی*

20 Aug 2026
1 min read

*سیرتِ طیبہ ﷺ: اصلاحِ فرد سے تعمیرِ معاشرہ تک، عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی*

کالم نگار: محمد فداء المصطفیٰ قادری*  پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا

آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلند ترین منزلوں تک پہنچ چکا ہے۔ سائنس نے اس کی زندگی کو آسان بنا دیا، ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا، رابطے کے ذرائع نے فاصلے مٹا دیے اور علم و معلومات کے دروازے ہر شخص کے لیے کھول دیے، لیکن اس سب کے باوجود انسان آج بھی سکون، اطمینان، اخلاقی استحکام اور معاشرتی امن کی تلاش میں ہے۔ ہمارے پاس وسائل بہت ہیں، مگر سکون کم ہے؛ معلومات بہت ہیں، مگر شعور کم ہے؛ رابطے بہت ہیں، مگر تعلقات کمزور ہیں۔ ایسے دور میں سیرتِ طیبہ ﷺ انسان کے سامنے محض ایک تاریخی واقعہ بن کر نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات بن کر آتی ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے معاشرے کی اصلاح کا آغاز انسان کے اندر سے کیا۔ آپ ﷺ نے سب سے پہلے عقیدے کو درست کیا، دلوں کو اللہ کی معرفت سے روشن کیا، اخلاق کو سنوارا اور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری کا احساس دلایا۔ اس کے بعد یہی صالح افراد ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنے۔ اس لیے سیرتِ طیبہ ﷺ کو سمجھنے کے لیے یہ بات بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے۔

آج ہم معاشرے کی خرابیوں کا شکوہ بہت کرتے ہیں۔ ہمیں سیاست میں بدعنوانی نظر آتی ہے، تجارت میں دھوکا دکھائی دیتا ہے، تعلیم میں کمزوریاں نظر آتی ہیں، نوجوانوں میں بے راہ روی دکھائی دیتی ہے، خاندانوں میں اختلافات نظر آتے ہیں اور معاشرے میں نفرت بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ معاشرہ ہم ہی سے بنتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد جھوٹ بولتے ہوں، وہ معاشرہ سچائی کا علم بردار کیسے بن سکتا ہے؟ جس کے افراد اپنے مفاد کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کریں، وہاں عدل کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ جس گھر میں والدین بچوں کو وقت نہ دیں اور بچے والدین کو بوجھ سمجھنے لگیں، وہاں خاندانی نظام کیسے مضبوط رہے گا؟

رسول اللہ ﷺ نے انسان کو سب سے پہلے اس کے اپنے نفس کا نگہبان بنایا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں صداقت، امانت، حیا، صبر، شکر، عدل، رحم، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن سے ایک فرد اچھا انسان بنتا ہے اور اچھے افراد مل کر اچھا معاشرہ تشکیلدیتے ہیں۔

آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ کو صرف پڑھنے اور سننے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا آئینہ بنائیں۔ ہم یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں ان فرامین پر کہاں تک عمل کر رہے ہیں۔ ہم محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرتے ہیں، نعتیں پڑھتے ہیں، محافل منعقد کرتے ہیں، سیرت کے جلسے کرتے ہیں، لیکن اگر ہماری زبان سے جھوٹ، غیبت اور بدکلامی جاری ہے، ہمارے معاملات میں خیانت ہے، ہمارے گھروں میں ظلم ہے اور ہمارے دلوں میں دوسروں کے لیے نفرت ہے تو ہمیں اپنے دعوائے محبت کا جائزہ لینا چاہیے۔

سیرتِ طیبہ ﷺ ہمیں گھر سے اصلاح کا سبق دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت اور شفقت کا ایسا نمونہ پیش فرمایا جو ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ آج گھر موجود ہیں، مگر گھروں کا سکون کم ہوتا جارہا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے زیادہ وقت موبائل اسکرین کے ساتھ گزارتے ہیں۔ والدین بچوں کی تربیت کے بجائے صرف ان کی تعلیمی کامیابی چاہتے ہیں، جبکہ بچے والدین کیقربت کے بجائے سوشل میڈیا کی دنیا میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ اگر گھروں میں سیرتِ نبوی ﷺ کے اخلاق واپس آجائیں تو خاندانوں کے بہت سے مسائل خود بخود کم ہوسکتے ہیں۔

نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ آج کا نوجوان ذہانت، صلاحیت اور توانائی رکھتا ہے، مگر اسے صحیح سمت اور مقصد کی ضرورت ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ نوجوان کو یہ سکھاتی ہے کہ زندگی صرف دنیاوی کامیابی، دولت، شہرت اور تفریح کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ نوجوان اگر اپنے وقت، صلاحیت اور علم کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کرے تو وہ اپنے خاندان ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو صرف ڈانٹنے کی نہیں، ان پر اعتماد کرنے، انہیں مقصد دینے اور سیرتِ رسول ﷺ کے کردار سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔

معاشرتی زندگی میں سیرتِ طیبہ ﷺ کا سب سے روشن پہلو عدل، رحم اور انسانی احترام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں انسان کی عزت اس کے مال، خاندان، رنگ، نسل یا قبیلے سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے وابستہ ہوئی۔ آج ہمارا معاشرہ مختلف تعصبات کا شکار ہے۔ کہیں ذات، کہیں زبان، کہیںعلاقہ، کہیں مسلک اور کہیں سیاسی وابستگی انسانوں کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔ اختلاف اپنی جگہ فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی بنا دینا سیرتِ نبوی ﷺ کے مزاج کے خلاف ہے۔ ہمیں اختلاف کے باوجود اخلاق، عدل اور انسانی احترام کو باقی رکھنا ہوگا۔

کاروبار اور معیشت بھی سیرتِ نبوی ﷺ سے الگ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے تجارت میں سچائی، امانت، ناپ تول میں انصاف اور حلال کمائی کی تعلیم دی۔ آج اگر ایک مسلمان عبادت میں بہت آگے ہو لیکن کاروبار میں دھوکا دے، ملاوٹ کرے، جھوٹ بولے یا کسی کا حق دبائے تو اسے اپنے دین کے عملی تقاضوں پر غور کرنا چاہیے۔ اسلام مسجد میں بھی ہے اور بازار میں بھی؛ نماز میں بھی ہے اور معاملات میں بھی؛ عبادت میں بھی ہے اور کردار میں بھی۔

اسی طرح سوشل میڈیا کے اس دور میں سیرتِ طیبہ ﷺ کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج ایک جھوٹی خبر چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کسی کی عزت ایک پوسٹ سے مجروح ہوسکتی ہے، کسی کے خلاف ایک جھوٹا الزام اس کی پوری زندگی متاثر کرسکتا ہے۔ اس لیے آج ہمیں اپنی انگلیوں کو بھی اخلاق سکھانے کی ضرورت ہے۔ جو بات ہم زبان سے کہنے پر گناہ سمجھتے ہیں، اسے موبائل سےلکھ کر بھی گناہ ہی سمجھنا چاہیے۔ سیرت ہمیں زبان کی حفاظت، خبر کی تحقیق اور دوسروں کی عزت کا سبق دیتی ہے۔

آج تعلیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے تعلیم کو اکثر ڈگری اور روزگار تک محدود کردیا ہے، جبکہ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں ایسی تعلیم کا تصور دیتی ہے جو انسان کے علم کے ساتھ اس کے کردار کو بھی تعمیر کرے۔ ایسا شخص جو بہت پڑھا لکھا ہو لیکن امانت دار نہ ہو، تعلیم یافتہ ضرور کہلا سکتا ہے، مگر اس کی تعلیم معاشرے کے لیے کتنی مفید ہے، یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو ذہن کے ساتھ دل، علم کے ساتھ اخلاق اور قابلیت کے ساتھ ذمہ داری بھی پیدا کرے۔

سیرتِ طیبہ ﷺ کا ایک اہم پہلو انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف طبقات کے لوگوں کے ساتھ عدل، رحم اور حسنِ معاملہ کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے پر مضبوط رہتے ہوئے بھی دوسروں کے ساتھ انصاف، شرافت اور انسانیت کا معاملہ کرسکتا ہے۔ آج جب دنیا مذہبی، سیاسی اور نسلی تقسیم کا شکار ہے، سیرتِ نبوی ﷺ انسانیت کو امن، عدل اور احترام کا پیغام دیتی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیرتِ طیبہ ﷺ اتنی جامع ہے تو ہماری زندگیوں میں اس کا اثر کیوں کم نظر آتا ہے؟ اس کا جواب شاید یہ ہے

کہ ہم نے سیرت کو اکثر معلومات سمجھ لیا ہے، تبدیلی نہیں۔ ہم جانتے بہت ہیں، لیکن عمل کم کرتے ہیں۔ ہم سیرت سنتے ہیں، مگر اپنی عادات نہیں بدلتے۔ ہم نبی کریم ﷺ کی محبت کی بات کرتے ہیں، مگر آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں جگہ دینے کی کوشش کم کرتے ہیں۔

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے موقع پر بھی ہمیں اسی حقیقت پر غور کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت امت کے لیے عظیم نعمت ہے اور آپ ﷺ کی محبت ایمان کا حصہ ہے، لیکن اس محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی میں آپ ﷺ کی تعلیمات کا عکس نظر آئے۔ اگر محفلِ میلاد سے ہماری محبت بڑھتی ہے تو اس محبت کا اگلا مرحلہ اتباع ہونا چاہیے؛ اگر سیرت سن کر ہماری آنکھ نم ہوتی ہے تو اس کے بعد ہماری زندگی بھی بدلنی چاہیے۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ پر کتنی تقریریں کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہماری گفتگو، ہمارے معاملات، ہمارے گھر، ہماری تجارت، ہماری تعلیم، ہماری سیاست، ہماری دوستی، ہماری دشمنی اور ہماری سوشل میڈیا زندگی میں سیرتِ رسول ﷺ کا کتنا اثر موجود ہے۔

سیرتِ طیبہ ﷺ ہمیں ماضی کی یاد نہیں دلاتی بلکہ مستقبل کا راستہ دکھاتی ہے۔ جب معاشرہ نفرت میں مبتلا ہو تو سیرت رحمت کا راستہ دکھاتی ہے، جب ظلم بڑھے تو عدل کا، جب جھوٹ عام ہو تو صداقت کا، جب خاندان ٹوٹیں تو

حسنِ معاشرت کا، جب نوجوان بے مقصد ہوں تو مقصدِ زندگی کا اور جب انسان ترقی کے باوجود بے سکون ہو تو اللہ سے تعلق کا راستہ دکھاتی ہے۔

اس لیے آج ہمیں کسی نئے نسخے کی تلاش میں سیرتِ طیبہ ﷺ کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسی میں موجود رہنمائی کو اپنی زندگی کے مسائل پر منطبق کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنی نماز درست کرنی ہوگی، اپنی زبان کی حفاظت کرنی ہوگی، والدین کے حقوق ادا کرنے ہوں گے، اولاد کی تربیت کرنی ہوگی، معاملات میں دیانت اختیار کرنی ہوگی، اختلاف میں اخلاق باقی رکھنا ہوگا اور اپنے علم کو عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔ کیونکہ فرد بدلتا ہے تو گھر بدلتا ہے، گھر بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے اور معاشرہ بدلتا ہے تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

سیرتِ طیبہ ﷺ کا اصل پیغام یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف دل کا جذبہ نہ رہے بلکہ زندگی کا کردار بن جائے۔ ہماری زبان پر درود ہو تو ہمارے معاملات میں صداقت بھی ہو، ہماری محفل میں نعت ہو تو ہماری زندگی میں سنت بھی ہو، ہمارے دل میں محبتِ رسول ﷺ ہو تو ہمارے کردار میں اخلاقِ رسول ﷺ بھی نظر آئے۔

سیرت کو پڑھنا آغاز ہے، سمجھنا شعور ہے، محبت کرنا سعادت ہے، مگر سیرت کو اپنی زندگی میں اتار دینا اصل کامیابی ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)