Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
استقبالِ ماہِ آمدِ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم

استقبالِ ماہِ آمدِ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم

20 Aug 2026
1 min read

استقبالِ ماہِ آمدِ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم

محمد حسن علیمی  لہرولی، نول پراسی نیپال

ربیع الاول اسلامی سال کا ایک نہایت بابرکت، مقدس اور روح پرور مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، خاتم النبیین، رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں مبعوث فرما کر انسانوں پر عظیم احسان فرمایا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پوری کائنات کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے ظلمتوں میں اجالا ہوا، جہالت کے اندھیرے چھٹے، انسان کو اس کے رب کی معرفت حاصل ہوئی اور زندگی گزارنے کے لیے ایک کامل اور جامع دستورِ حیات عطا ہوا۔ اسی نسبت سے ربیع الاول کا روح پرور مہینہ اہلِ ایمان کے لیے محبت، عقیدت، شکر اور خوشی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل عرب معاشرہ مختلف برائیوں میں مبتلا تھا۔ شرک و بت پرستی عام تھی، کمزوروں پر ظلم کیا جاتا تھا، عورتوں کے حقوق پامال ہوتے تھے، معمولی باتوں پر قبائلی جنگیں برپا ہوجاتی تھیں اور اخلاقی اقدار کمزور پڑ چکی تھیں۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول بنا کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور 

انہیں سچائی، امانت، عدل، مساوات، رحم، محبت اور حسنِ اخلاق کا درس دیا۔ آپ نے انسان کو یہ حقیقت سمجھائی کہ عزت و فضیلت کا معیار مال، خاندان یا رنگ و نسل نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک کردار ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمة للعالمین قرار دیا۔ آپ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ  نے یتیموں، مسکینوں، غلاموں، عورتوں، پڑوسیوں اور معاشرے کے کمزور افراد کے حقوق کی خصوصی تعلیم دی۔ آپ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عفو و درگزر، عدل اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ فرمایا۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان لوگوں کو بھی معاف فرما دیا جنہوں نے برسوں سے آپ اور صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہماجمعین کو اذیتیں دی تھیں۔ یہ آپ کے بے مثال رحم و کرم اور اعلیٰ اخلاق کی روشن دلیل ہے۔

ماہِ ربیع الاول کا استقبال محض ظاہری خوشی یا رسم و رواج کا نام نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اپنی زندگی کو سنتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق بنانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس مہینے میں ہمیں چاہیے کہ ہم کثرت سے درود و سلام پڑھیں، قرآنِ کریم کی تلاوت کریں، سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں اور نوجوانوں کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات سے آگاہ کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک اچھا مسلمان صرف عبادات ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے اخلاق، معاملات اور کردار سے بھی اسلام کی خوبصورتی ظاہر کرتا ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا اہم تقاضا ہے، لیکن محبت کا حقیقی ثبوت صرف زبان سے دعویٰ کرنا نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ 

گفتگو میں سچائی اختیار کریں، وعدوں کی

پابندی کریں، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں، کسی کا حق نہ ماریں اور اپنے دل کو بغض، حسد، تکبر اور نفرت سے پاک رکھنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ عملی راستہ ہے جس سے ہم محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کردار میں ظاہر کرسکتے ہیں۔

آج کے دور میں جب معاشرہ بے شمار اخلاقی، معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہے، سیرتِ مصطفی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرلیں تو ہمارے گھروں میں محبت، معاشرے میں امن اور دلوں میں اطمینان پیدا ہوسکتا ہے۔ نوجوان نسل کو خصوصاً یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ قیامت تک انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ کی سیرت میں طالب علم کے لیے رہنمائی، والدین کے لیے تربیت، حکمران کے لیے عدل، تاجر کے لیے دیانت، استاد کے لیے شفقت اور عام انسان کے لیے بہترین اخلاق کا نمونہ موجود ہے۔

ربیع الاول ہمیں یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے روشن کریں اور اپنی زندگی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے مطابق سنواریں۔ درود و سلام کی محافل، سیرت النبی کے اجتماعات اور نعتیہ پروگرام اگر اخلاص، شریعت کی پابندی اور اصلاحِ کردار کے جذبے کے ساتھ منعقد کیے جائیں تو وہ ہمیں سیرتِ طیبہ سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے کہ ماہِ ربیع الاول کی خوشی ہمارے اخلاق اور اعمال میں بھی نمایاں ہو۔

آخر میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا حقیقی استقبال یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ کے پیغام کو سمجھیں، اسے اپنی زندگی میں نافذ کریں اور دوسروں تک محبت و حکمت کے ساتھ پہنچائیں۔ ہماری زبان پر درود، دل میں محبت اور کردار میں سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہونی چاہیے۔ اگر ربیع الاول کے بابرکت ایام ہمیں سچائی، محبت، رحم، عدل، خدمتِ خلق اور اطاعتِ رسول کی طرف لے جائیں تو یہ ہمارے لیے حقیقی کامیابی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت عطا فرمائے، آپ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے،

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)