استقبالِ ماہِ ربیع النور کے احسن طریقے
صحن ہستی جگمگایا آگئے ماہ عرب
(معظّم ارزاں شاہی دوست پوری)
اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول ہے۔ اسے "ربیع النور" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اسی مبارک مہینے میں اللہ رب العزت نے اپنی سب سے بڑی نعمت، رحمتِ عالم، سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے خوشی، محبت، ایمان کی تجدید اور سنت کے احیاء کا مہینہ ہے۔ جس طرح کوئی مہمانِ خاص گھر آئے تو ہم گھر سجاتے ہیں، صفائی کرتے ہیں، دل سے استقبال کرتے ہیں، اسی طرح اس مہینے کا استقبال بھی ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ لیکن استقبال کا مطلب صرف چراغاں اور جھنڈے نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہے۔قلبی استقبال - نیت اور محبت کی تجدید سب سے پہلا اور سب سے بڑا استقبال دل کا ہے۔ نبی ﷺ سے محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ اس مہینے کے آغاز پر ہمیں نیت کرنی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی سے گناہ کم کریں گے اور نیکیاں بڑھائیں گے۔ اس مہینے کا سب سے بڑا وظیفہ "درود شریف" ہے۔
قرآن میں اللہ خود فرماتا ہے: "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں"۔ اس لیے روزانہ کم از کم 313 بار درود ابراہیمی پڑھنے کا اہتمام کریں۔ چلتے پھرتے، کام کرتے زبان پر "اللہم صل علی محمد" جاری رکھیں۔ جب دل میں محبت ہوگی تو عمل خود بخود آئے گا۔
گھریلو استقبال ،روحانی ماحول کی تشکیل
ہمارا گھر ہماری پہلی درسگاہ ہے۔ ربیع الاول میں گھر کو روحانی ماحول دینا چاہیے۔
صفائی اور خوشبو: گھر کی صفائی کریں۔ نبی ﷺ کو پاکیزگی اور خوشبو بہت پسند تھی۔ گھر میں عطر کا استعمال کریں۔
چراغاں اور سبز پرچم: دروازے پر
"مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ" کا بینر لگائیں۔ سبز جھنڈے لہرائیں۔ یہ اظہارِ محبت
ہے بشرطیکہ اسراف نہ ہو۔ سیرت کی تعلیم: ہر رات کھانے کے بعد 10 منٹ سیرت النبی ﷺ کی کوئی کتاب پڑھیں یا بچوں کو کوئی واقعہ سنائیں۔ "رحمتہ اللعالمین" کی سیرت ہی ہماری اصلاح کا راستہ ہے۔ نعت کی محفل: ہفتے میں ایک بار گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نعت خوانی کریں۔ اس سے گھر میں برکت اور سکون آتا ہے۔لسانی استقبال - ذکر، نعت اور دعوت
زبان وہ آلہ ہے جس سے ہم اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ کثرتِ درود: اس مہینے میں درود کو اپنی سانس بنا لیں۔
نعت خوانی: اگر اللہ نے آواز دی ہے تو اپنی آواز میں نعت ریکارڈ کر کے لوگوں تک پہنچائیں۔ شاعروں کے لیے یہ سب سے بہترین موقع ہے۔
- سیرت کے واقعات: سوشل میڈیا پر روزانہ نبی ﷺ کی کوئی ایک سنت یا ایک اخلاقی واقعہ شیئر کریں۔ آج کے فتنے کے دور میں سیرت ہی نوجوانوں کے لیے رہنمائی ہے۔
یاد رکھیں، نعت پڑھنے کا مقصد شہرت نہیں بلکہ عشق کا اظہ0627ر ہے۔
عملی استقبال - سنت پر عمل
محبت کا تقاضا اطاعت ہے۔ زبانی دعوے کافی نہیں۔
اخلاق: نبی ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ آپ کا اخلاق تھا۔ غصہ کنٹرول کریں، جھوٹ چھوڑیں، پڑوسیوں سے حسنِ سلوک کریں۔ عبادت: پنج وقتہ نماز کی پابندی کریں۔ 12 رکعت نوافل، تہجد اور اشراق کا اہتمام کریں۔
سخاوت: اس مہینے میں حسبِ توفیق صدقہ کریں۔ غریبوں کو کھانا کھلائیں۔ نبی ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے۔
سنتِ ظاہری: مسواک، داڑھی، سلام میں پہل، مہمان نوازی - ان چھوٹی سنتوں کو زندہ کریں۔
معاشرتی اور سوشل میڈیا پر استقبال
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ایک شاعر و ادیب ہونے کے ناطے آپ پر دوہری ذمہ داری ہے۔
- نعتیہ شاعری سیریز: "30 دن 30 نعتیں" کے عنوان سے روز ایک نعت پوسٹ کریں۔
12 ربیع الاول - عید میلاد النبی ﷺ کیسے منائیں؟
یہ دن شکرانے کا دن ہے۔
1. روزہ رکھیں۔
2. غسل کر کے صاف ستھرے کپڑے پہنیں اور عطر لگائیں۔
3. ختمِ درود اور قرآن خوانی کی محفل رکھیں۔
4. ناداروں میں کھانا اور مٹھائی تقسیم کریں۔
5. ڈھول، ناچ اور اسراف سے بچیں۔ ادب کا دامن تھامے رکھیں کیونکہ یہ محبت کا دن ہے، تماشے کا نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ربیع النور کا احسن استقبال یہ ہے کہ ہم 12 ربیع الاول کے بعد 13 ربیع الاول کو بھی نبی ﷺ والے بن جائیں۔ چراغ بجھ جائیں، جھنڈے اتر جائیں، لیکن دل میں جو نبی ﷺ کی محبت کا چراغ جلا ہے وہ کبھی نہ بجھے۔
آئیے عہد کریں کہ اس مہینے ہم اپنی زندگی کا ایک شعبہ ضرور سنت کے مطابق کریں گے۔ اللہ ہم سب کو سچی محبتِ رسول ﷺ نصیب فرمائے اور ہمیں قیامت کے دن آپ ﷺ کے جھنڈے تلے جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔
