Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
*جشن ولادت مصطفیٰ ﷺ اور جلوس میلاد کے آداب*

*جشن ولادت مصطفیٰ ﷺ اور جلوس میلاد کے آداب*

20 Aug 2026
1 min read

جشن ولادت مصطفیٰ ﷺ اور جلوس میلاد کے آداب

*✍🏻مفتی سراج احمد قادری، مصباحی، ممبئی، انڈیا.*

6355155781

محترم عاشقان رسول ﷺ!

ربیع الاول شریف وہ بابرکت اور مقدس مہینہ ہے جس میں ہمارے پیارے آقا و مولا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ دنیا بھر میں مسلمان بارہ ربیع الاول شریف کے موقع پر میلاد مصطفیٰ ﷺ کی خوشیاں مناتے، درود و سلام پڑھتے اور محبت رسول ﷺ کا اظہار کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی مختلف شہروں اور علاقوں میں جلوس میلاد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

یہ خوشی یقیناًحضور ﷺسے قلبی محبت و عقیدت کی خوشی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جشن ولادت مصطفیٰ ﷺ شریعت کے دائرے، اخلاق نبوی ﷺ اور ملک کے قانون کی پابندی کے ساتھ منایا جائےتاکہ ہماری خوشی دوسروں کے لیے زحمت نہ بنے اور جلوس امن، وقار اور حسن اخلاق کی خوبصورت مثال بن جائے۔

*جلوس میلاد کے چند اہم آداب اور احتیاطی تدابیر*

*۱۔ نیت درست رکھیں:*

جلوس کا مقصد محض شور، واہ واہی، نمائش یا مقابلہ نہ ہو، بلکہ محبت رسول ﷺ، ذکر و درود، سیرت طیبہ کی یاد اور نیکی کی دعوت ہو۔

*۲۔وضو اور نماز کا اہتمام کریں:*

جلوس میں شامل ہونے سے پہلے حتی الامکان وضو کرلیں اور پاکیزگی کا اہتمام کریں۔ اگر جلوس کے دوران نماز کا وقت ہوجائے تو جلوس کی مصروفیت کو نماز پر ترجیح نہ دیں، بلکہ نماز باجماعت کا اہتمام کریں۔ محبت رسول ﷺ کا تقاضا یہی ہے کہ آپ ﷺ کیتعلیمات پر عمل بھی کیا جائے۔

*۳۔مقامی انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں:*

جلوس کے لیے جہاں اجازت یا پیشگی اطلاع قانونی طور پر ضروری ہو، وہاں منتظمین بروقت تمام قانونی تقاضے پورے کریں۔ انتظامیہ کی مقرر کردہ شرائط، راستے، اوقات اور ہدایات کی پابندی کی جائے۔

*۴:راستے میں نظم و ضبط برقرار رکھیں:*

جلوس منظم انداز میں چلے۔ سڑکوں کو غیر ضروری طور پر مکمل بند نہ کیا جائے اور ایمبولینس، فائر بریگیڈ، پولیس، مریضوں اور دیگر ہنگامی خدمات کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔

*۵۔خواتین اور بالغ لڑکیوں کو جلوس میں شامل نہ کریں:*

گھروں کے ذمہ دار مرد حضرات اس معاملے میں پہلے ہی سے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنی بالغ خواتین اور لڑکیوں کو جلوس میں شرکت سے روکیں۔ بسا اوقات خواتین کے جلوس میں شامل ہونے سے مرد و خواتین کا اختلاط، بے احتیاطی اور دیگر فتنوں کی صورت پیدا ہوجاتی ہے، جس کے باعث علما کو دوران جلوس اعلان کرکے خواتین کو الگ ہونے یا گھروں کو واپس جانے کی درخواست کرنا پڑتی ہے۔

اگر مرد حضرات پہلے ہی سے اس ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنے گھر کی خواتین کو جلوس میں جانے سے روکیں تو جلوس بہت سے فتنوں، بے اعتدالیوں اور ناگوار صورت حال سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

*۶۔اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اجتناب کریں:*

حضور اکرم ﷺ رحمت بن کر تشریف لائے۔ اس لیے ایسے نعرے، کلمات، تقریریں یا حرکات نہ کی جائیں جن سے کسی مذہب، طبقے یاکسی فرد کی دل آزاری، اشتعال یا کشیدگی پیدا ہو۔

*۷۔ڈی جے اور غیر مناسب آوازوں سے مکمل اجتناب کریں:*

جلوس میلاد کو شور و ہنگامے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ ڈی جے، گانے باجے اور غیر مناسب آوازوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ سادگی، وقار اور ادب کے ساتھ نعت رسول مقبول ﷺ پڑھتے ہوئے، لبوں پر درود و سلام سجائے، اطمینان اور سکون کے ساتھ چلیں۔

یاد رکھیں! جلوس کی خوب صورتی بلند آواز نہیں، بلکہ ذکر، درود، ادب، نظم اور محبت رسول ﷺ ہے۔

*۸۔دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں اور جذبات کا احترام کریں:*

جلوس اگر کسی عبادت گاہ کے قریب سے گزرے تو خصوصی احتیاط کی جائے۔ مقررہ راستے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے بچا جائے۔

*۹۔علما و ائمہ کو آگے رکھا جائے:*

جلوس میں ائمۂ مساجد، علما و مشائخ اور اہل علم حضرات کو مناسب طور پر آگے رکھا جائے اور دیگر شرکا ان کے پیچھے نظم و ضبط کے ساتھ چلیں۔ اس سے جلوس کی شان، وقار اور دینی شناخت مزید نمایاں ہوگی اور عوام بھی علما کی رہنمائی میں زیادہ منظم انداز سے آگے بڑھ سکیں گے۔

*۱۰۔کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرتے

وقت رزق کا ادب ملحوظ رکھیں:*

جلوس میں بسکٹ، چاکلیٹ، پانی ،بریانی،پلاؤ،یا دیگر اشیائے خوردنی تقسیم کرنا نیکی اور محبت کا کام ہے، لیکن تقسیم کرنے کا انداز بھی باادب ہونا چاہیے۔ خدارا کھانے پینے کی چیزیں لوگوں کی طرف پھینک کر یا اچھال کر نہ دیں۔ کوشش کریں کہ چیز ان کے ہاتھ میں رکھ کر دیں یا انہیں اپنے پاس بلا کر عطا کریں۔

بسا اوقات چیزیں اچھالنے کی وجہ سے سڑک پر گر جاتی ہیں اور پھر لوگوں کے قدموں تلے آکر ضائع ہوجاتی ہیں۔ یہ رزق کی بے حرمتی اور ناشکری کا سبب بن سکتا ہے۔ خدارا! رزق کا احترام کریں، نعمتوں کی قدر کریں اور تقسیم طعام کو بھی ادب و وقار کے ساتھ انجام دیں۔

*۱۱۔جلوس کو نظم و ضبط کے ساتھ جاری رکھیں:*

راستے میں ایک دوسرے کو دھکا دینا، شور شرابا، غیر ضروری دوڑ دھوپ، دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بننے والے کام اور سڑکوں پر بے ترتیبی سے بچیں۔ ٹریفک، راہ گیروں، دکان داروں اور مقامی لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ راستہ بند کرنے یا کسی کو تکلیف پہنچانے سے حتی الامکان اجتناب کریں۔

*۱۲۔ صفائی کا اہتمام کریں:*

جلوس کے بعد سڑکوں، گلیوں اور عوامی مقامات پر کچرا نہ چھوڑیں۔ پانی کی بوتلیں، کھانے کے پیکٹ اور دیگر اشیا ادھر ادھر پھینکنے کے بجائے مناسب جگہ پر ڈالیں۔صفائی بھی ایمان اور حسن اخلاق کا حصہ ہے۔

*۱۳۔ راستے میں لوگوں کو تکلیف نہ دیں*

 

کسی کے گھر، دکان، کاروبار یا گاڑی کے سامنے بلا ضرورت ہجوم نہ کیا جائے۔ کسی راہ گیر کو دھکا دینا، بدتمیزی کرنا یا راستہ روکنا عشق رسول ﷺ کے شایان شان نہیں۔

*۱۴۔ سوشل میڈیا پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں:۔*

ایسی ویڈیوز، افواہیں، غیر مصدقہ خبریں یا اشتعال انگیز پوسٹس شیئر نہ کریں جو ماحول کو خراب کرسکتی ہوں۔ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں خود فیصلہ کرنے کے بجائے ذمہ دار منتظمین اور متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

*منتظمین کی خصوصی ذمہ داری:*

جلوس کے ذمہ دار حضرات پہلے سے رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دیں، راستے اور پروگرام کی مکمل منصوبہ بندی کریں، ٹریفک اور ہنگامی صورتِ حال کے لیے انتظامیہ سے رابطہ رکھیں، گمشدہ بچوں یا کسی ہنگامی ضرورت کے لیے رابطہ مرکز قائم کریں اور شرپسند عناصر کو جلوس کا ماحول خراب کرنے کا موقع نہ دیں۔

*یاد رکھیں!*

ایک چھوٹی سی بے احتیاطی پورے جلوس اور پوری جماعت کی بدنامی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے جوش کے ساتھ ہوش بھی ضروری ہے۔

*اصل پیغام محبت رسول ﷺ ہے*

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جشن ولادت مصطفی ﷺ صرف چراغاں، جھنڈوں اور جلوس کا نام نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں اپنانے کا نام بھی ہے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)